بچوں میں سیکھنے  کی صلاحیت  کیسے ہوتی ہے ؟

ہمارے بچے  ہمارے دلوں کے ٹکڑے ہوتے ہیں ،آنکھوں کے تارے ہوتے ہیں،ہماری آنکھوں کی ٹھنڈ ک ہوتے ہیں ۔ہم  روزانہ ان کو صبح سویرے اسکول کے لئے جگاتے ہیں ،ان سے  کہتے ہیں بیٹا چلو اٹھو اسکول کا تائم ہورہا ہے ،آٹو   آنے والا ہے ،اسکول بس آنے والی ہے ،اس طرح ان اٹھا کر بٹھاتے ہیں ، نہلا دھلا کر تیار کرتے ہیں ۔ان کی پسند  کا ناشتہ تیار کرتے ہیں ۔اسکول کی بڑی بڑی فیس ادا کر کے    ان سے امید لگاتے ہیں کہ ہمارا بچہ اچھا پڑھ کر بڑا آدمی بنے گا ۔اس موقعہ پر آپ ایک بات یاد رکھیں کہ  آپ کا بچہ جو چیزیں سمجھےگا وہی یاد رکھ سکتا ہے ،جو نہیں سمجھ پاتا وہ یاد رکھ نہیں سکتا ہے۔

ہمارے بچے جو کچھ پڑھتے ہیں اس میں کا صرف ۱۰ فیصد یاد رکھ سکتے ہیں ،جس چیز کو سنتے ہیں ان میں  کی ۲۰ فیصد چیزیں یاد رہ جاتی ہیں ۔جب دیکھ کر سیکھتے ہیں تو ۳۰ فیصد یاد کرھ سکتے ہیں ،اگر  کسی چیز کو دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں تو ۵۰ فیصد یاد رکھ  سکتے ہیں ،اور جس چیز کو سیکھتے ہیں اگر اس کو  لکھتے  ہیں اور اپنی زبان میں اس کو بول سکتے ہیں تو پھر ۸۰ فیصد سیکھ لیتے ہیں  اور یاد بھی رکھتے ہیں ۔ہاں اگر   پراکٹیکل  ،عملی طور پر انجام دے کر سیکھتے ہیں تو ۹۰ فیصد سیکھتے ہیں اور یاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

اس بات کی پوری کوشش کریں کہ آپ کا بچہ جس چیز کو پڑھ رہا ہے اس کی عملی  مشق کرتا رہے ۔اب اس معاملے میں سب سے بڑی ذمہ داری ہمارے اسکولس کے ٹیچرس کی ہے کہ وہ بچوں کو ہر چیز کی عملی مشق کراتے ہوئے پڑھائیں ،اصل   کو سمجھانے کی کوشش کریں ،صرف یاد کرانے ،حفظ کرانے ،اور بار بار امتحان لیکر   یاد کرانے کے بجائے  وہ جو کچھ پڑھتا ہماری روزمرہ زندگی  سے جوڑنے کی کوشش کریں ۔ مثالیں ایسی دی جائیں جن  کو وہ اپنے آس پاس ہی محسوس  کریں ۔اپنی کلاس میں  دیکھ سکیں ۔

ایک  کامیاب ٹیچر کی  علامت یہ ہوتی ہے  کہ وہ پڑھانے سے پہلے سبق   کی تیاری کرے ،اس سبق  کے مطابق  عملی مشق  کی کچھ چیزیں تیار کرے ۔اگر ہمارے  بچوں کی پڑھائی عملی مشق کے ساتھ ہو تو پھر کامیابی پکی ہے ان شاللہ ۔ہمار ا بچہ جو کچھ پڑھ رہا ہے اگر    اس کی عملی مشق نہیں کرتا ہے   تو سمجھ لیں  جو کچھ پڑھتا ہے اس کا صرف ۱۰ واں حصہ  یاد رکھ سکتا ہے ۔اگر بار بار رٹتا بھی رہے وہ صرف امتحان ہال تک یاد رکھ سکتا ہے پھر امتحان کے بعد دوسرے دن ہی بھول جاتا ہے ۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 5 / 5. Vote count: 1

No votes so far! Be the first to rate this post.

2 thoughts on “بچوں میں سیکھنے  کی صلاحیت  کیسے ہوتی ہے ؟

  1. ماشاء اللہ بہت عمدہ معلومات ہیں، ہر والدین تک یہ پیغام پہنچایا جائے اور اپنے بچوں عملی زندگی سیکھنے کا موقع فراہم کریں.

Leave a Reply