امانت کن کن چیزوں میں ہے؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((لَا إيمَانَ لِمَنْ لَّا أَمَانَةَ لَه

”اس کا ایمان نہیں جس کے اندر امانت نہیں ۔”مسند أحمد

امانت کے کئ مفہوم ہیں :

1۔ ایک تو وہ چیز امانت ہے جو کسی نے کسی کے پاس بطور حفاظت رکھی ہو ۔ امانت رکھنے  والا جب بھی طلب کرے، اسے اس کی وہ چیزواپس کردی جائے۔ یہ امانت ہے اور واپس نہ کرنا خیانت ہے۔ ایک مومن کی  خصوصیت  یہی ہے کہ وہ امانت دار  ہو، یعنی امانت کی حفاظت کرنے والا اور مانگنے پر  لوٹادینے والا ۔ اسکے برخلاف  ، خیانت کرنا منافق کی نشانی ہے۔

2۔امانت کا دوسرا مطلب عہدہ و منصب ایسے لوگوں کو دینا جو اس کے قابل  ہو ں۔ محض پارٹی بازی ، وفاداری یا رشوت کے نتیجے  میں اور  رشتہ داری   میں عہدوں کی تقسیم اور بندربانٹ کرنا  خیانت ہے۔ آج کل کی حکومتوں میں یہ خیانت عام ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت میں یہی حکم ہے کہ عہدے ااس کے قابل  لوگوں کو ہی  دیے جائیں:

((اِنَ اَللهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّواْ اَلْأَمَٰنَٰتِ إِلَيٰ أَهْلِهَا))   النساء 4 : 58

” اللہ تعلیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے قابل لوگوں کو ادا کردو ۔’

اس کا مطلب جس عہدے کے جو قابل ہونگے ان لوگوں کو عہدہ و منصب دیا جائے  ۔ کوٹہ سسٹم بھی امانت کے خلاف ہے کیونکہ اس میں بھی قابل  افراد کے بجائے ،صرف ذات پات کی بنیا دپر لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے چاہے اس میں قابلیت ہو  یا نہ ہو  اس طرح کا کام  امانت کے  بالکل خلاف ہے ۔

3۔امانت کا تیسرا مطلب اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے ادا کرنا ۔ اپنی طے شدہ تنخواہ  پوری طرح وصول کرلینا لیکن اپنی ڈیوٹی ادا کرنے میں جان بوجھ کر کوتاہی کرنا ، یہ بھی خیانت ہے ۔ یہ خیانت ہمارے سرکاری اداروں میں  خاص طور پر  اور پرائوٹ اداروں میں عام طور پر  پائی جاتی ہے۔

4۔امانت کا چوتھا مطلب  دوسروں  کی باتیں سن کر اپنے تک محدود رکھنا، اسے لوگوں کے درمیان بیان نہ کر نا ۔یہ مانت ہے  اسی مفہوم کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے :

(( اَلْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ ))

“مجلسیں امانت کے ساتھ ہیں ۔”

سنن أبي داود، الأدب،باب في نقل الحديث، حديث : 4869، و صحيح الجامع الصغير، حديث: 6678

یعنی مجلس میں کسی کے بارے میں  کچھ باتیں ہوئی    ہو ں تو وہ باتیں اپنی ذات تک محدود  رکھنا چاہئے  ۔ انھیں سن کر دوسروں کو نہ پہنچائیں ۔اگر پہنچائیں تو یہی خیانت ہے ، اس سے اس کے دل میں موجود   دشمنی  میں مزید اضافہ ہوجائے گا ۔ ایک اور حدیث میں اس مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔

(( إِ ذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِا لْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ ))

“جب آدمی کوئ بات کر کے مڑ کر دیکھے ( کہ کسی نے سنی تو نہیں ) تو وہ بات امانت ہے۔”

(سنن أبي داود، الأدب، باب في نقل الحديث، حديث: 4868)

یعنی بات کرنے کے بعد اس کا مڑ کر دیکھنا ، یہ اس بات کے قائم مقام ہے کہ وہ یہ کہے:

” یہ بات میرے حوالے سے کسی کے سامنے نہ کرنا ، یہ تیرے پاس میری امانت ہے۔”

البتہ تین باتیں مستثنیٰ  ہیں : نا جائز خون ریزی، بدکاری یا  چوریا اور  ڈاکہ زنی ۔ یعنی کسی مجلس میں یہ سوچ بچار کی جائے کہ فلاں شخص کو قتل کرنا ہے، یا فلاں عورت کے ساتھ بدکاری کرنی ہے، یا فلاں کے  گھر میں ڈاکہ ڈالنا ہے تو شرکائےمجلس کی ذمے داری ہے کہ وہ متعلقہ لوگوں کو خبردار کر دیں۔ مجلس کی ایسی باتیں جن میں دوسروں نقصان پہنچانے کی پلاننگ  کی جائے، امانت نہیں ہیں بلکہ ان کا متعلقہ  لوگوں  تک پہنچانا ضروری ہے، خاموش رہنا جرم میں ساتھ دینا شمار ہوگا ۔

5۔ امانت کا پانچوں مطلب  ۔ میاں بیوی کی راز دارانہ  باتیں امانت ہیں۔ بیوی کو خاوند کی باتیں اور خاوند کو بیوی کی باتیں اپنے تک محدود رکھنی چاہییں ۔ انھیں دوستوں اور سہیلیوں کے سامنے بیان کرنا امانت میں خیانت اور  اللہ کے پاس  بڑا جرم ہے ۔

ایک حدیث میں نبئ اکرمﷺ نے فرمایا:

“قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے بد تر وہ شخص ہو گا جو بیوی کے ساتھ ملاپ کرتا اور بیوی اس کے ساتھ ہم بستر ہوتی ہے، پھر اس کے بھید لوگوں کے سامنے کھولتا ہے۔” (سنن ابی داؤد، باب مزکور )

6۔امانت کا چھٹا مطلب ۔ شرعی احکام کی پابندی  کرنا ، امانت  ہے  اور ان کی خلاف ورزی کرنا  خیانت ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت میں امانت کا یہی مفہوم ہے:

(( إِنَّا عَرَضْنَا اَلْأَمَانَةَ عَلَي اَلسَّمَٰوَٰتِ وَاَلْأَرْضِ وَاَلْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا اَلْإِنَسٰنُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ))                                      ( الأحزاب   72:33)

” بے شک ہم نے امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا، پس انھوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈرگئے اور انسان نے اس کو اٹھالیا ۔ ویقینا ً وہ ظالم اور نادان ہے۔”

احکام شرعیہ کو امانت سے تعبیر کر کے اشارہ فرمادیا کہ ان کی ادائیگی انسانوں پر اسی طرح واجب ہے جس طرح امانت کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔

خلاصہ کلا م یہ ہے کہ امانت  مال  کے ساتھ عہدہ ومنصب  کو صحیح لوگوں کو دینا بھی ہے،اپنی ڈیوٹی کو صحیح انجام دینا بھی ہے،دوسرون کو کے راز کو راز میں رکھنا بھی ہے،میاں بیوی کی رازدارانہ باتیں بھی امانت ہیں،شریعت کے احکام کی پابندی بھی امانت ہے۔جب ان ساری چیزوں کا خیال کرتے ہیں تو ہی امانت دار کہلائیں گے۔اگر ان  باتوں کی پابندی   نہیں کریں گے تو امانت دار نہیں کہلا سکتے ۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

Average rating 0 / 5. Vote count: 0

No votes so far! Be the first to rate this post.

Leave a Reply